بسم اللہ الرحمن الرحیم
Post-Covid Heart Attack: Why Death Rates Are Increasing & How to Protect Yourself
(آرٹیکل شروع)
پوسٹ کووڈ ہارٹ اٹیک: اموات میں اضافے کی وجوہات اور اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے طریقے
کووڈ-19 کی عالمی وبا سے نمٹنے کے بعد، دنیا بھر کے ڈاکٹر اور محققین ایک نئے اور تشویشناک رجحان پر غور کر رہے ہیں: کووڈ سے صحتیاب ہونے والے افراد میں ہارٹ اٹیک کے واقعات اور اس سے اموات میں خطرناک اضافہ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے آگاہی ہر ایک کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اس آرٹیکل میں، ہم کووڈ کے بعد ہارٹ اٹیک کے بڑھتے ہوئے خطرے کی بنیادی وجوہات، علامات پر نظر رکھنے کے طریقے، اور اپنے دل کی صحت کو کیسے بہتر بنایا جائے، اس پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔
کووڈ-19 اور دل کا تعلق: سائنس کیا کہتی ہے؟
تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کووڈ-19 وائرس محض سانس کی بیماری نہیں ہے۔ یہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر انسانی جسم کے متعدد اعضاء، خاص طور پر دل کو متاثر کر سکتا ہے۔ وائرس دل کے پٹھوں (Myocardium) میں سوزش (Myocarditis) پیدا کر سکتا ہے، خون کے لوتھڑے (Blood Clots) بننے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے، اور شریانوں میں موجود تختی (Plaque) کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ہارٹ اٹیک کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔
ہارٹ اٹیک سے اموات میں اضافے کی کلیدی وجوہات
1. دل پر وائرس کا براہ راست حملہ: SARS-CoV-2 وائرس ان خلیوں پر حملہ کرتا ہے جن میں ACE2 receptors پائے جاتے ہیں، اور یہ receptors دل میں بھی وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ وائرس کے اسے متاثر کرنے سے دل کے پٹھے کمزور ہو سکتے ہیں اور اس کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
2. خون کے لوتھڑے بننا (Blood Clotting): کووڈ-19 خون کو گاڑھا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر یہ لوتھڑا دل کی کسی شریان میں بن جائے تو وہ خون کے بہاؤ کو روک دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔ یہ لوتھڑے پھیپھڑوں یا دماغ میں بھی جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
3. شدید سوزش (Systemic Inflammation): کووڈ-19 جسم میں ایک زبردست سوزش کا ردعمل پیدا کرتا ہے، جسے "سائٹوکائن سٹورم" کہا جاتا ہے۔ یہ سوزش پورے جسم کی شریانوں کو نقصان پہुंچا سکتی ہے اور دل کے دورے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
4. دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی (Arrhythmias): کووڈ-19 کے دوران اور اس کے بعد بھی، مریضوں میں دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کی شکایت عام دیکھی گئی ہے، جو کہ اچانک دل کے بند ہونے کی ایک بڑی وجہ بن سکتی ہے۔
5. تاخیر سے علاج (Delayed Treatment): وبا کے دوران، بہت سے مریض ہسپتال جانے سے گھبراتے تھے یا معمول کی جانچ نہیں کرواتے تھے۔ اس کی وجہ سے دل کے امراض کی بروقت تشخیص نہیں ہو پائی، جس کے نتیجے میں حالات سنگین ہوتے چلے گئے۔
انتباہی علامات جن پر فوری توجہ دیں
کووڈ سے صحتیاب ہونے کے بعد بھی، اگر آپ درج ذیل میں سے کوئی بھی علامت محسوس کریں تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں:
· سینے میں درد، دباؤ یا بھاری پن: خاص طور پر ورزش یا کسی جسمانی سرگرمی کے دوران۔
· سانس لینے میں دشواری: معمولی کام کرتے ہوئے بھی سانس پھولنا۔
· تھکاوٹ اور کمزوری: غیر معمولی اور شدید تھکاوٹ محسوس ہونا۔
· **دل کی دھڑکن تیز ہونا یا چھوٹنا (