بھارت نے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، سیلابی ریلے سے پنجاب کے 9 اضلاع ہائی الرٹ
India Releases More Water into Sutlej River, Punjab's 9 Districts on High Alert Due to Flood Influx
لاہور: بھارتی انتظامیہ کے ستلج دریا میں مزید پانی چھوڑنے کے فیصلے کے بعد پنجاب کے 9 اضلاع میں سیلاب کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے، جس کے بعد صوبائی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے متاثرہ اضلاع کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، بھارت کی جانب سے ستلج دریا میں 1,70,000 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے، جس کے باعث دریا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ محکمہ آبی وسائل کے مطابق، دریائے ستلج میں پانی کی سطح بہاولپور کے نزدیک 50 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے، جو کہ خطرے کے نشان سے کہیں زیادہ ہے۔
متاثرہ اضلاع: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(PDMA) کے مطابق، جن 9 اضلاع کو ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے ان میں بہاولپور، بہاولنگر، وہاڑی، منچن آباد، ملتان، Lodhran, Muzaffargarh, Rahim Yar Khan, اور Rajanpur شامل ہیں۔ ان تمام علاقوں میں انتظامیہ نے فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
احتیاطی تدابیر: سیلاب سے ممکنہ نقصان سے بچاؤ کے لیے PDMA نے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ان میں:
· متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
· فوج اور پیرا ملٹری فورسز کو ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔
· طبی امداد اور خوراک کی فراہمی کے لیے کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں۔
· دریا کے کناروں کو مضبوط بنانے اور بندوں کی مرمت کا کام تیز کر دیا گیا ہے۔
عوامی احتیاط: محکمہ موسمیات نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ دریا کے قریب جانے سے گریز کریں اور انتظامیہ کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں۔سیلابی ریلے کے پیش نظر مقامی لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مویشیوں کو دریا کے قریب نہ جانے دیں اور خود بھی احتیاط برتیں۔
حکومتی ردعمل: وزیر اعلیٰپنجاب مریم نواز نے اس صورت حال پر فوری طور پر بریفنگ لی ہے اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف کاموں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے PDMA اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرہ افراد کی بحالی اور امداد کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔
ماضی کے واقعات: یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کے باعث پنجاب کے متعدد اضلاع میں سیلاب آیا تھا،جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئی تھیں اور کثیر تعداد میں مال مویشی بہہ گئے تھے۔ اس سال انتظامیہ نے ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے پہلے ہی سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید اقدامات: محکمہ موسمیات نے دریا میں پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے اپنی نگرانی کو مزید بڑھا دیا ہے اور ہر گھنٹے بعد اپ ڈیٹ جاری کی جا رہی ہے۔علاوہ ازیں، مقامی انتظامیہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد پہنچانے کے لیے ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیے ہیں۔
آخر میں: صورت حال سنگین ہے اور انتظامیہ نے اس سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا لیے ہیں۔عوام الناس سے گزارش ہے کہ وہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔